نئی دہلی، 10 فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) پاکستان کے لئے جاسوسی کے لئے گرفتار ایئر فورس آفیسرارون مارواہ نے تفتیش میں کئی اہم خلاصے کیے ہیں۔ معلومات کے مطابق ہنی ٹریپ کاشکارہوئے ملزم افسر آئی اے ایف میں گروپ کیپٹن ارون مارواہ نے دستاویز لیک کرنے کی بات قبول کرلی ہے۔ساتھ میں اس نے یہ بھی خلاصہ کیاہے کہ لڑکی کے کہنے پر اس نے وہاٹس ایپ چیٹ کرنے کے مقصدسے خود سم کارڈ خریدااورلڑکی کے بتائے پتے پربھیج دیا۔بعد میں دونوں اسی سم کارڈ کے ذریعہ وائس ایپس پرسیکس چیٹ کرنے لگے اور ہنی ٹریپ کے جال میں پھنس کر مارواہ نے اسی سم کارڈ پر چل رہے واٹس ایپ پربحریہ کے کئی خفیہ دستاویزات کو لیک کیا۔ مارواہ نے بتایاکہ اس نے دونوں ہی لڑکیوں کواس نے وہاٹس ایپ پر ایئر فورس کے اہم دستاویزات بھیجے۔ہنی ٹریپ میں پھنس کر پاکستانی کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو اہم دستاویز بھیجنے والے مارواہ کا کہنا ہے کہ وہ پوری طرح لڑکیوں کے چکرمیں پھنس گیاتھا اور ان کے ساتھ سیکس ویڈیوچیٹ کرناچاہتاتھا، اس لئے اس نے سم کارڈ خریدا اور ان کو بھیجا۔ ذرائع کے مطابق مارواہ نے فیس بک پررابطہ میں آئی کرن رندھوانامی لڑکی نے اپنی عمر 20 سال بتائی اور خودکو ماڈلنگ سے جڑاہوابتایا۔گزشتہ سال دسمبر میں تریوندرم کے دورے کے دوران مارواہ کرن کے ساتھ رابطے میں آیا، کرن کے ساتھ بات چیت کے علاوہ دونوں ایک دوسرے سے ویڈیو بھی شیئرکرنے لگے، مارواہ نے انکشاف کیا کہ اس نے کرن کے فیس بک میسنجرپرہی کئی دستاویزات بھیجاہے۔فیس بک پر چیٹنگ کے بعد مارواہ واٹس ایپ پر ان لڑکیوں کے ساتھ ویڈیو چیٹنگ کرنے کے لئے بے تاب ہو گیا لیکن خواتین نے بتایا کہ ان کے پاس سم کارڈ نہیں ہے،اس لئے مارواہ نے خود سم کارڈ خریدکرانہیں بھیج دیا، بس وہاٹس ایپ پران کے درمیان سیکس چیٹنگ شروع ہوگئی۔دہلی میں واقع ایئر فورس ہیڈکوارٹر میں اسمارٹ فون لے جانامنع ہے، کچھ اعلی افسران کو اسمارٹ فون کو اندر لے جانے کی اجازت ہے۔ ارون مارواہ چونکہ ایک گروپ کیپٹن تھا، لہذا اسمارٹ فون ہیڈکوارٹر کے اندر اسے لے جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔مارواہ نے اپنی تجربہ کاری کااستعمال کیا اور ہمیشہ اپنا سمارٹ فون ہیڈکوارٹر کے اندر لے گیا، مارواہ اپنے اسمارٹ فون کے ذریعہ ہی انٹیلی جنس کی خفیہ تصاویرکھینچی اور بعد میں بعد میں وائس ایپ کے ذریعہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے ایجنٹ کو بھیجی۔ارون مارواہ ایئر فورس میں اعلی عہدے پرتھے اور ان کے پاس کئی اہم محکمہ جات اور ذمہ داریاں تھیں، مارواہ سوشل پلیٹ فارم پر بہت فعال رہتے تھے۔ وہ اکثر فیس بک پر اپنی تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرتے تھے،اس لئے انہیں آسان شکار سمجھ کرپھنسایاگیا۔ ایئر فورس کے پاروا ڈویزن میں 1983 میں شامل ہوئے مارواہ تین سال بعد ٹرینر بن گئے، شروع سے ہی اس کی تصویر بہت پیشہ ور سپاہی کی رہی، چونکہ تمام دفاعی خدمات کی کمانڈو یونٹس کو زمین، سمندر اور ہوا میں لڑنے کے لئے تربیت دی جاتی ہے،اس لئے گروپ کیپٹن مارواہ نے فوج کے خصوصی افواج، فضائی فورس اور بحریہ کے گروڑ کمانڈواور فوج بھی تربیت دیتے تھے۔ جے ڈی (آپریشن) کے طور پر شامل ہونے کے بعد اس نے بہت سے خفیہ فائلوں تک رسائی حاصل کی تھی۔ وہ کمانڈوز کو ٹریننگ دیتے تھے۔